مجھے ياد رکھیں

کورونا وائرس اور دین اسلام ( پہلی قسط )

تحریر : ھارون رشید خواجہ جموں و کشمیر// رابطہ کے لیے: (khajaharoon@gmail.com)

الحمد للہ و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ و بعد ! یہ بات معلوم ہے کہ سال 2019 کے آخر میں ایک خطرناک وائرس انسانوں میں پھیلنا شروع ہو اجس کی زد میں آج 25 مارچ 2020 تک دنیا کے اکثر ممالک آچکے ہیں اخبارات کے مطابق ساڑھے اٹھارہ ہزار سے زائد لوگ مرچکے ہیں اور چارلاکھ سے زائد افراد اس وباء کے شکار ہوچکے ہیں، اور اس وقت یہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔
اس وباء کے بارے میں خدشہ ہے کہ اگر اس پرجلد کنٹرول نہیں پایا گیا اور احتیاطی تدابیر نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں اس سے کروڑوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں ۔
اب جب کہ اس وباء نے اتنی خطرناک جان لیوا صورت اختیار کی ہے تو زمان و مکان کے اعتبار سے عالمگیر ہمار ا دین اسلام اس کے تدارک اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں کیا تعلیمات انسانوں کو دیتا ہے ؟
دین اسلام ہر اعتبارسے شامل و کامل ہے جہاں یہ دین بیت الخلاء میں جانے کی تعلیمات بھی انسانوں کو دیتا ہے تووہاں یہ دین اتنی خطرناک جان لیوا وباء کے بارے میں کیسے خاموش رہ سکتا ہے ؟ بس ضرورت یہ ہے کہ اس دین کی تعلیمات کو اچھی طرح سمجھا جائے اور انسانوں تک پہنچائی جائيں ۔
آج تک اس کی ویکسین نہیں بنائی جاسکی ہے، البتہ اس وقت جو اس کا مؤثر ، ممکن اور سب سے بڑا علاج دنیا میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ متاثرین کو الگ تھلگ رکھا جائے اور باقی لوگ بھی احتیاط کے طور پر ایک دوسرے سے دور رہیں ، اس وقت دنیا کے بہت سارے ممالک نے جزوی یا کلی لاک ڈاون کیا اور بعض ایسا کرنے پر غور خوض کر رہے ہیں تاکہ اس وباء کے خطرناک پھیلاؤ کو روکا جاسکے ۔ لیکن اس لاک ڈاون سے کچھ ایسے مسائل بھی پیدا ہوئے جو مذہب سے متعلق ہیں لہذا میں اس وقت دین اسلام کی روشنی میں ان مسائل کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔ پہلا مسئلہ : کیا وباء سے متاثر شخص یا علاقہ سے وباء ختم ہونے تک دوری ( علاحدگي ) اختیار کرنا جائز ہے ؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس سے بچنے کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر کے طور دوری ( علاحدگی ) اختیار کرنا تقدیر سے بھاگنا ہے ، بزدلی ہے ، اور مومن کی شان بل میں چھپ جانا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔
شریعت اسلامیہ کی تعلیمات پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی وبائی بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر وباء ختم ہونے تک لوگوں سے الگ تھلگ رہنا نہ تقدیر سے بھاگنا ہے اور نہ ہی بزدلی ہے ۔
غور کیا جائے کہ جب ایک شخص احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہے اور وباء سے متاثر شخص یا جگہ سے دور رہتا ہے تو کیا وہ اس کی تقدیر میں لکھا ہوا نہ تھا ؟ جب کہ ہمارا ایمان یہ ہے انسان جو کچھ کرتا ہے وہ سب اس کی تقدیر میں پہلے سے لکھا ہوا ہوتا ہے، گویا کہ اس کا دور رہنا بھی تقدیر ہی تھا ۔ لہذا یہ تقدیر سے بھاگنا ہرگز نہیں ہے ۔ یہ سوچ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بالکل موافق ہے جس کی مختصر وضاحت یوں ہے(اس کی تفصیل بخاري کی حدیث 5729 میں موجود ہے) کہ جب وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ شام ( سیریا ) کی طرف روانہ ہو ا تو راستے میں معلوم ہوا کہ وہاں پر وباء پھیلی ہوئي ہے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا، ان میں اختلاف رائے ہونے کے بعد یہ طے کیا کہ سب واپس لوٹیں گے تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اعتراضا کہا : کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگنا چاہتے ہیں ؟ تو حضرت عمر نے کہا : " نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ " یعنی : ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں ۔ آخر میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ آئے جو اس مجلس مشاورت میں کسی کام کی وجہ سے موجود نہ تھے ، انہوں نے نبی ﷺ کا فرمان بیان کیا : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " یعنی : جب تم اس ( وباء ) کے بارے میں سنو گے کہ یہ کسی جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ ، اور جب یہ کسی جگہ واقع ہوجائے تو وہاں سے مت بھاگو ۔
اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وبائی بیماری سے بچنے کا مؤثر ، آسان اور ممکن علاج احتیاط کے طور پر یہ ہے کہ وباء سے متاثر شخص یا جگہ سے دور رہا جائے ۔ اور ایسا کرنا اگر تقدیر سے بھاگنا ہوتا تو اللہ کے نبی ﷺ اس کی تعلیم امت کو ہرگز نہ دیتے ۔ اس سے اس بات کی بھی تائید ہوتی ہے کہ جب چین میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو اگر اسی وقت فورا تمام دنیا نے چین میں داخل ہونا بند کیا ہوتا اور وہاں موجود کسی بھی شخص کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکا ہوتا تو آج پوری دنیا کے چار لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر نہ ہوئے ہوتے ۔آج دنیا کے بہت سارے ممالک کے لاک ڈاون کرنے سے ایک بار پھر دین اسلام کی آفاقیت اور صداقت واضح ہوجاتی ہے ، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام ہر زمانے میں انسانوں کے لیے رہنمائی کے قابل ہے ۔ غیر مسلم اسلام کے بارے میں کیا تصور ات رکھتے ہیں ؟ یہ بات واضح ہے ۔ شاید اسی لیے دنیا میں کئی جگہوں پر مسلمانوں کو ظلم کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ آج ان ظلم کرنے والوں اور اسلام کے بارے میں غلط تصورات کے حامل لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے ان مظلوم مسلمانوں سے پوچھا ہوتا کہ اسلام میں اس وباء سے بچنے کا کیا علاج ہے تو وہ ان کو اپنے نبی (ﷺ) کی مذکورہ بالا حدیث ضرور بیان کرتے ، اور پھر وہ اس پر عمل کرتے تو آج پوری دنیا اس جان لیوا خطرناک وباء سے محفوظ ہوتی ۔ اسلام کی سچائی ، آفاقیت ، کمال ، شمولیت ، میانہ روی ، اور انسان دوستی کی صرف یہ ایک ہی مثال نہیں بلکہ اسلام کی تمام تعلیمات اسی جیسی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تصور کو درست کیا جائے ، وائرس کی طرح پھیلی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے، اسلام کا مطالعہ کھلے ذہن سے کیا جائے ، تعصب کی عینک آنکھوں سے اتاری جائے اس کے بعد اسلام کی سچائی ، آفاقیت ، کمال ، شمولیت ، میانہ روی ، اور انسان دوستی کی بے شمار مثالیں نظر آئيں گی ۔ یہ بات بھی معلوم ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا کوئي سبب ہوتا ہے اور پھر اس سبب کا بھی سبب ہوتا ہے کبھی وہ انسان کے علم میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا ہے ۔ اسی طرح اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے وہ بھی کبھی انسان کے علم میں آجاتی ہے اور کبھی نہیں ۔ لہذا غور کیا جائے کہ اس کورونا وائرس کی کیا حکمت ہوسکتی ہے ؟ ممکن ہے کہ مختلف لوگ مختلف آراء دیں گے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی حکمت شاید یہ ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں اور اسلام کے متعلق غلط تصور رکھنے والوں کو سمجھایا جائے کہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں انسانیت کے لیے خیر ہی خیر ہے ۔
وباء سے بچاو اور بزدلی :
رہی بات یہ کہ کورونا وائرس سےبچنے کے لیے احتیاط کی تدبیر کی خاطر عام لوگوں کا اپنے آپ کو دوسروں سے وباء ختم ہونے تک الگ تھلگ رکھنا اور گھروں میں ہی قیام کرنا بزدلی ہے یا نہیں ؟
اسلام کی آفاقی ، کامل و شامل تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے ایسا کرنا کسی بھی صورت میں بزدلی نہیں ہے ، احتیاطی تدابیر کو بزدلی نہیں کہا جاسکتا ہے ، ہمارے سامنے عہد نبوی اور عہد صحابہ کی کئی مثالیں ہیں جو احتیاطی تدابیر تھیں نہ کہ بزدلی :
1 ۔ جب قریش کے کفار مومنین کو انتہائی دردناک تکالیف پہنچاتے تھے تو اللہ کے نبی ﷺ یہ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی ان کفار کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتے تھے ، اس میں احتیاط یہ تھی کہ اگر اس وقت ان کفار کے خلاف ہتھیار اٹھایا جاتا تو مسلمان تعداد میں بہت کم ہونے کی وجہ سے سب کے سب شہید کیے جاتے ، لہذا اس وقت حکمت کا تقاضا یہی تھا جس پر اس وقت کے مسلمانوں نے عمل کیا ۔ لہذا اس کو کسی بھی صورت میں بزدلی نہیں کہا جاسکتا۔
2 ۔ نبی ﷺ نے جو طریقہ کار ہجرت کے وقت اختیار کیا وہ سراسر احتیاط تھا ۔ گھر سے نکلنے کا طریقہ اور وقت کا تعین ، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملنے کا طریقہ ، پھر غار ثور تک جانے کا طریقہ ، پھر اس میں کچھ دن چھپ جانا ، پھر وہاں سے نکلنا ، پھر مدینہ جانے کے لیے مخصوص راستہ اختیار کرنا ، راستہ میں اپنی پہچان کو پوشیدہ رکھنا ۔ یہ سب کا سب نبی ﷺ نے اس لیے کیا تاکہ دشمن کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ایسا صرف اور صرف احتیاطی تدبیر کے طور کیا گیا، اس کو بھی کسی بھی صورت میں بزدلی نہیں کہا جاسکتا ۔
3 ۔ غزوہ احزاب کے موقع پر دشمن کا آمنا سامنا کرنے کے بجائے مدینہ کے بعض اطراف کے اردگرد ایک خندق (چاہ ) کھودا گیا تاکہ دشمن آگے بڑکر مدینہ پر حملہ آور نہ ہوسکے ۔ یہ بھی احتیاط کے طور کیا گیا ، اس کو بھی کسی بھی صورت میں بزدلی نہیں کہا جاسکتا ۔
4 ۔ حدیبیہ کے موقع پر جب نبی ﷺ کفار کے ساتھ صلح کی تو بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس صلح نامہ کی شرائط میں مسلمانوں کی پسپائي ہے لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ایسا احتیاط کی وجہ سے اختیار کیا کیوں کہ مسلمان اس موقع پر جنگی پوزیشن میں نہیں تھے اور جو شروط اس وقت طے پائے ان سے مسلمانوں کو بعد میں بہت فائدہ پہنچا ۔ صلح کی ان شروط کو تسلیم کرنا بھی ہرگز ہرگز بزدلی نہیں تھی ۔
5 ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وباء زدہ شام ( سیریا )میں داخل نہ ہونے بلکہ واپس لوٹنے کا فیصلہ کرنا ان کی دانشمندی ، دوراندیشی ، اور امت کی غم خواری کی بنیاد پر ایک احتیاطی تدبیر تھی نہ کہ بزدلانہ حرکت ۔
یہ تھیں بہت ساری مثالوں میں سے چند کا ذکر ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاطی تدبیر اختیار کرنا بزدلی نہیں بلکہ دانشمندی اور دوراندیشی ہوتی ہے ۔ جنگ میں دشمن کو مارنایا خود مرنا مقصد نہيں ہوتا ہے بلکہ دشمن پر فتح حاصل کرنا مقصد ہوتا ہے لہذا اگر وہ لڑنے کے بغیر ہی حاصل ہو تو لڑنا کیوں ضروری ہے ؟ ! اور جنگ کو لڑے بغیر حکمت اور تدابیر سے ہی جیتا جاسکتا ہے جیسے غزوہ احزاب اور فتح مکہ کی مثالیں ہیں ۔ اسی طرح بیماری سے بچنے کے لیے صرف دواء ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس سے حکمت اور تدابیر سے بھی بچا جاسکتا ہے ، لہذا جب ایسا ممکن اور آسان ہو تو دواء کا استعمال کیوں ضروری ہے؟ ! اس طرح سے ہمیں حکمت اور تدابیر کی اہمیت اور افادیت معلوم ہوتی ہے ۔
بیماری سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شریعت کے عین موافق ہے :
1 ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ" (مسند احمد / 9722 // بخاري / 5707)
یعنی : کوڑھی (لیپروسی کے بیمار) شخص سے ایسے بھاگو جیسے تو شیر سے بھاگتا ہے ۔
آج کورونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا کےسائنسدان ، ڈاکٹر ، حکمران ، دانشوران قرنطینہ میں رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔بہت سارے ممالک میں جزوی یا کلی لاک ڈاون کیا جارہا ہے ۔ کوڑھی سے بھاگنے کے متعلق حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وباء سے بچنے کی خاطر قرنطینہ میں رہنا یا انسانی آبادی میں لاک ڈاون کرنا شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ شریعت کے موافق ہے ۔ وہ اس طرح کہ : یہ بات طبی سائنس میں معلوم ہے کہ کوڑھ کی بیماری (leprosy) ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتی ہے لہذا اسلام میں اس سے ایسے دور رہنے کی تعلیم دی گئی جیسے آدمی شیر سے بھاگتا ہے ۔ یہ بات بھی معلوم ہے جب کسی شخص کا پیچھا شیر کرے تو آدمی بھاگتے بھاگتے کوئی پناہ گاہ ڈھونڈتا ہے اور جب اسے کوئی مکان ملے تو اسی میں چھپ جاتا ہے اور اندر سے تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کرلیتا ہے تاکہ شیر اندر داخل نہ ہو ۔ قرنطینہ اور ایسولیشن کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ خطرے کو انسان سے دور رکھا جائے ۔ اس حدیث سے مزید یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وباء سے بچنے کی تدابیر پر عمل کرنا بزدلی یا ایمان کی کمزوری نہیں ہے بلکہ دانشمندی اور دور اندیشی ہے ۔
2 ۔ کوڑھی شخص سے دور رہنے یا اسے ہی دور رکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے : شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : " كَانَ فِى وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ " (مسلم / کتاب السلام / باب 36)
یعنی : ثقیف کی وفد میں ایک کوڑھی شخص تھا ، تو نبی ﷺ نےاسے پیغام بھیجا : ہم نے آپ کے ساتھ بیعت کی لہذا آپ واپس لوٹو ۔
یعنی اللہ کے نبی ﷺنے ان سے ہاتھ ملا کر بیعت نہیں کی ، کیوں کہ حدیث کے الفاظ میں ہاتھ ملانے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ دور سے ہی اسے واپس جانے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کوڑھ کی بیماری کو ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگنے والی بیماری سمجھتے تھے ۔
3 ۔ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : " لاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ »" (مسلم / کتاب السلام / باب 33)
یعنی : بیمارجانور والا شخص درست جانوروالے شخص کے پاس( بیمار جانور )قریب نہ لائے ۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ایسا جانور ہے جسے ایسی بیماری لاحق ہے جو دوسرے جانور کو لاحق ہوسکتی ہے تو پانی پلانے اور گھاس وغیرہ کھلانے کے وقت ان کو دور دور رکھنا چاہیے ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وبائی بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور قرنطینہ اور ایسولیشن میں رہنا اور انسانی آبادیوں میں لاک ڈاون کرنا نہ ہی غیر شرعی ہے اور نہ ہی بزدلی یا ایمان کی کمزوری ہے ۔
وباء سے بچنے کی خاطر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے :
ایسا اس طرح ہے کہ اگر مسلمان احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کریں تو دشمنان اسلام کو یہ کہنے کا اچھا موقع فراہم ہوگا کہ اسلام اور مسلمان شدت پسند ہیں ، نا عاقبت اندیش ہیں ، ان کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں ہے ، یہ مذہب آج کے جدید سائنسی دور کے لائق نہیں ہے ، یہ سائنسی تحقیقات کے خلاف ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔ جب کہ حقیقت ایسی نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمان امن پسند ہیں یہ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، یہ دور اندیش ہیں ، ان کے نزدیک انسانی جانوں کی بہت زیادہ قدر ہے ، اس مذہب کی تائید آج کے جدید سائنسی علوم سے ہوتی ہے ۔
وباء سے بچنے کا آفاقی اسلامی قانون :
قرآن کی ہر آیت اور نبی ﷺ سے ثابت ہر حدیث میں انسان کے لیے خیر ہی خیر ہے ۔ اسلام ایک متوازن دین ہے اس میں فرد اور عوام کی مصلحتوں کا خیال رکھا گیا ہے ، اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا :
" لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ " (ابن ماجۃ / 2340 /امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
مطلب یہ کہ : نہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ ہی کسی اور کو نقصان پہنچانا جائز ہے ۔
یہ ایسی حدیث ہے جسے علماء اسلام نے ان پانچ سب سے بڑے قواعد (قوانین ) میں شمار کیا ہے جن کے تحت اسلامی فقہ کے بہت سارے فرعی قواعد آتے ہیں ، بلکہ علماء نے کہا کہ اسلامی فقہ کا مدار انہی پانچ قواعد پر ہے ۔ امام ابوداد رحمہ اللہ کہتے ہیں : فقہ کا مدار پانچ احادیث پر ہے جن میں انہوں نے اس حدیث " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ " کو بھی گرادانا ہے (الاتجاهات الفقهية ، تالیف : ڈاکٹر عبد المجید / ص 422) ۔
یہ بات آج پوری دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ کورونا وائرس انتہائی خطرناک ہے جس سے آج تک ہزاروں لوگ مرچکے ہیں ، لاکھوں لوگ موت و حیات کی جنگ لڑ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں اس کے مزید پھیلنے کا امکان ہے ۔ اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ جب کوئی انسان اس سے متاثر ہوتا ہے تو جب تک اسے اس بیماری کے موجود ہونے کا ثبوت مل جاتا ہے تو تب تک وہ دوسرے انسانوں تک منتقل ہوتا رہتا ہے ، اور اکثر اوقات پہلے پہلے تو انسان کو معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ اس سے متاثر ہے ۔ تو ایسی صورت میں اگر وائرس سے متاثر شخص کھلا گھومتا رہے ، لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا رہے تو وہ دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے جو کہ جائزنہیں ہے اس کی دلیل مذکورہ بالا حدیث کے علاوہ یہ بھی ہے :
1 ۔ نبی ﷺ نے فرمایا : " مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ " (ترمذي / 1940 // امام البانی سے اسے حسن کہا ہے اور بعض جگہوں میں صحیح بھی کہا ہے)
یعنی : جو ( کسی کو ) تکلیف پہنچائے تو اللہ اسے تکلیف پہنچائے گا ۔
2 ۔ ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ" (بخاري / 5185) یعنی : جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے ہمسایہ کو تکلیف نہ پہنچائے ۔
معلوم ہونا چاہیے کہ انسان کا ہمسایہ صرف گھر کا ہمسایہ ہی نہیں ہے بلکہ دکان ، دفتر ، کھیت ، گاڑی میں سیٹ کے مواقع پر بھی ہمسایہ کا یہی حکم ہے ۔ 3 ۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " (بخاري / 10) یعنی : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔
یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ آج کا کورونا وائرس پھیلنے کے ذرائع میں بہت بڑا رول انسان کے منہ (جس میں زبان ہوتی ہے ) اور ہاتھوں کا ہوتا ہے ، لہذا دانشمندی یہ ہے کہ دوسروں کو اور اپنے آپ کو اس جان لیوا وائرس سے بچانے کی خاطر دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اپنے منہ پر ماسک پہنیں اور اپنے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح اکثر دھوتے رہیں ، اور وبائی صورت حال ختم ہونے تک دوسروں سے ہاتھ نہ ملائیں جیسا کہ نبی ﷺ نے بھی کوڑھی شخص کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا ۔
یہ بات بھی دھیان میں رہنی چاہیے کہ اگر انسان اپنے آپ کی پرواہ نہ کرکے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرے ، تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ابتداء میں انسان کو خود یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ وہ اس وباء سے متاثر ہے تو جب تک اسے خود متاثر ہونے کا علم ہوگا تو تب تک وہ دوسروں کو بے احتیاطی کرکے اس جان لیوا وائرس سے کیوں متاثر کرنے کا مرتکب ہوگا ؟ ! کیا ایسا کرنا دین کی خیر خواہی ، بہادری ، اور دانشمندی ہوگی ؟ ! ہرگز نہیں ۔
اگر صحیح و سالم شخص جو وائرس سے متاثر نہیں ہے وباء کے زمانے میں لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا رہے اور کھلا گھومتا رہے جب کہ اسے معلوم بھی نہیں ہے کہ کون وائرس سے متاثر ہے اور کون نہیں ہے تو وہ خود بھی اس کا شکار ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ہے جو جائز نہیں ہے ، اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اسلام میں جائز نہیں ہے اللہ کا ارشاد ہے : " وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ " (سورة البقرة /195) ۔ یعنی : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
اور فرمایا : " وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ " (سورة النساء / 29) ۔ یعنی : اور اپنے آپ کو ہلاک مت کرو ۔ جب معلوم ہوا کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا منع ہے تو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ممنوع کام کو ترک کرنے والے کو ہجرت کرنے والے کا ثواب ملے گا جیسا کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : " وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللهُ عَنْهُ " ( بخاري / 10 )
یعنی :اور مہاجر وہ ( بھی ) ہے جو اس کو ترک کرے جس سے اللہ نے منع کیا ہے ۔ اسلام نے نہ صرف اپنے آپ کو ہلاک کرنے سے منع کیا بلکہ مرنے کی آرزو کرنے سے بھی منع کیا ہے ، جیسا کہ ابو ہریرۃ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : " وَلَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " (بخاري / 5673) یعنی : تم میں سے کوئی بھی ہرگز موت کی آرزو نہ کرے ، کیوں کہ اگر وہ نیک ہوگا تو شاید نیکیوں میں مزید اضافہ کرے گا ، اور اگر وہ برا ہوگا تو شاید وہ ( برائی ) سے توبہ کرے گا ۔
عقلمندی کی بات ہے کہ جب موت کی آرزو کرنا بھی جائز نہیں ہے تو اپنے آپ کو کورونا وائرس سے متاثر کرکے ہلاکت میں ڈالنا کیسے جائز ہوگا ؟ ! واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔
اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اور اہم مسئلہ درپیش آتا ہے کہ کیا کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور نماز جماعت اور جمعہ کو وباء ختم ہونے تک ترک کرکے گھروں میں ادا کیے جائيں یا مسجد میں ہی ادا کرنا لازمی ہے ؟ اس پر دوسری قسط میں روشنی ڈالی جائے گی ، إن شاء اللہ ۔
(رابطہ کے لیے : khajaharoon@gmail.com)