مجھے ياد رکھیں

جماعت کا صحیح مفہوم

بہت سارے لوگ لفظ " جماعۃ  " سے ہی گمراہ ہوئے ، کوئی اپنا ہم خیال گروپ تیار کرکے جماعت کا دعوی کرتا ہے،تو کچھ لوگ دعوتی تنظیم ، فاونڈیشن ، ادارہ ، لیگ وغیرہ بنا کر جماعت کا دعوی کرتے ہیں ، جو ان کا ممبر بنے  اسے جماعت (فرقہ ناجیہ ) میں شامل کرلیتے ہیں ، اور جو ممبر نہ ہواسے اسی بنا پر گمراہ سمجھ کر  اپنےفتوی سے جہنم کا ایندھن بنادیتے ہیں اگر چہ وہ سلف صالحین کے خالص منہج پر گامزن بھی کیوں نہ ، سبحان اللہ !!!

ایسا کہنا کھلی گمراہی ہے ، ایسے لوگ غزو فکری کے شکار ہیں ، جو لفظ جماعت کے عظیم اور وسیع معنی کو اپنی تنظیم کے دائرے میں محدود کردیتے ہيں، یہی دور جدید کا جدید فتنہ ہے جسے علماء حق نے حزبیت کا نام دیا ہے اور اس کی سخت ترین مزمت کی ہے ۔

معاویہ بن ابی سفیان  رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: "أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِى النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِى الْجَنَّةِ وَهِىَ الْجَمَاعَةُ " (ابو دادو / 4597 / امام البانی نے اسے حسن کہا ہے)

یعنی : خبردار ! جو تم سے پہلے اہل کتاب تھے وہ بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے ، اور یقینا یہ امت تہتَّر  (73 ) فرقوں میں بٹ جائے گی ، ان میں سے بہتر ( 72 )جہنم میں جائيں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، وہ  " جماعت " ہے ۔

اب لوگوں نے اس لفظ " جماعت " میں گمراہ کن فتوی سازی کی ، جس سے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔تحریف لفظی کو مشکل پاکر تحریف معنوی کا سہار لیا ۔  چونکہ یہ اصول متفق علیہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں کہیں پر کوئی لفظ ہو جس کی پوری وضاحت وہاں پر نہ ہو تو قرآن اور حدیث ہی کی دوسری نصوص سے اس کا مفہوم سمجھا جاتا ہے لہذا اس لفظ"جماعت" کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :

"۔۔۔ قَالُوا وَمَنْ هِىَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِى " (ترمذی / 2641 /امام البانی نے اسے حسن کہا ہے  // شیخ الاسلام نے اس سے کئی جگہوں میں استشہاد کیا ہے جیسے : مجموع فتاوی ج 3 ، ص 159)

یعنی: انہوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) ! وہ ( فرقہ ناجیہ ) کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ( جو اس راہ پر ہوں گے ) جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔

اس سوال اور جواب کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہوا جو قرآن ، حدیث ، اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر قائم ہوگا ، لہذا جو شخص ، تنظیم ، فاونڈیشن ، ادارہ اس حدیث میں بتائے ہوئے منہج پر قائم ہوگا تو وہ جماعت  ( فرقہ ناجیہ ) میں شامل ہے ، اور اگر وہ اس منہج پر قائم نہیں ہے تو وہ جماعت میں شامل نہیں ہے ، پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بیک وقت صرف ایک ہی شخص یا ایک ہی تنظیم یا ایک ہی ادارہ جماعت میں شامل نہیں ہوں گے ، بلکہ جتنی تنظیمیں ، ادارے ، اشخاص ، حديث میں بتائے ہوئے منہج پر ہوں گے وہ سب جماعت میں شامل ہیں ۔ پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بعض لوگ اکثرت میں ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے ہیں یا جان بوجھ کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ جو اکثر ہوں گے وہی حق پر ہوں گے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا فیصلہ  یوں مروی ہے  :

عمرو بن میمون الأودی نے کہا : میں نے لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ عبد اللہ بن مسعود ( رضی اللہ عنہ )کی صحبت اختیار کی ، تو میں نے اس سے سنا:  "عَليكم بالجماعةِ فإن يَدَّ اللهِ مَعَ الجماعةِ " یعنی: تم جماعت کو لازم پکڑو ، پس یقینا اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔   پھر ایک دن میں نے اسے کہتے سنا کہ:  عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو نمازمیں اپنے اوقات سے  تاخیر کریں گے،تم نماز کو اپنےاوقات ہی میں ادا کرنا وہ تمہارے لیے فرض ادا ہوگی ، اور ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز ادا کرنا وہ تمہارے لیے نفل ادا ہوگی ، تو میں نے کہا :اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ!  مجھے سمجھ نہیں آتا ہے کہ تم کیا کہتے ہو ؟ ! تو اس نے کہا: کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : تو مجھے جماعت ( کو لازم پکڑنے ) کا حکم دیتے ہو اور اس پر مجھے ابھارتے ہو ، پھر مجھے کہتے ہو کہ (اپنے وقت پر)اکیلے ہی نماز پڑھو وہ فرض ہوگی ، اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھو وہ نفل ہوگی ؟ ! اس نے کہا : اے عمرو بن میمون ! میں تو سمجھتا تھا کہ تو اس گاؤں میں سب سے زیادہ سمجھ دار ہے !کیا تجھے معلوم ہے کہ جما‏عت کیا ہوتی ہے  ؟ میں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا :جماعت کے اکثر لوگوں نے تو جماعت ہی چھوڑ دی ہے ، "الجماعةُ ما وافَقَ الحق وإن كنتَ وَحدَك " یعنی : جماعت وہ ہے جس کے ساتھ حق ہو اگرچہ تو اکیلا ہی ہو ۔ (اعلام الموقعین / ج 3 / ص 397 // اس سے بہت سارے علماء نے استشہاد کیا ہے جیسے:امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ،ابن باز نے مجموع فتاوی ج 8 / ص 180 میں ،  صالح الفوزان نے شرح العقيدة الواسطية ص 6 میں ، وغیرہ)

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا : ابو محمد عبد الرحمن بن اسماعیل المعروف ابو شامہ نے کتاب (الباعث على إنكار) الحوادث و البدع میں کیا ہی بہترین بات کہی ہے : جماعت لازم پکڑنے کا حکم آیا ہے ، اس سے مراد " لزوم الحق وأتباعه "حق اور اس کے پیروکاروں کو لازم پکڑنا ہے ، اگرچہ اس پر کاربند کم ہی ہوں  اور اس کے مخالفین زیادہ ہی ہوں ، کیوں کہ حق ہی پر پہلی جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے زمانے میں تھی ، ان کے ( زمانے کے ) بعد اہل بدعت کی کثرت کو نہیں دیکھا جائے گا (إغاثة اللهفان من مصائد الشيطان / ج 1 / ص 69)۔

 محدث نُعَيْم بن حَمَّاد رحمہ اللہ نے کہا : " إذا فَسدَتِ الجماعةُ فَعَليكَ بما كانت عَليهِ الجماعَةُ قَبلَ أَن تَفسِدَ وإِنْ كُنتَ وَحْدَكَ؛ فَإنَّكَ أنتَ الجماعَةُ حِينئذٍ " ( المدخل للبیقھي، بحوالہ : إتحاف الجماعة بما جاء في الفتن والملاحم وأشراط الساعة ج 1 / ص 265 / تالیف: الشیخ حمود بن عبد الله التويجري) یعنی : جب  جماعت فساد کی شکار ہوجائے تو آپ پر لازم ہےکہ اسے لازم پکڑے جس پر جماعت فساد سے قبل تھی، اگرچہ تو اکیلا ہی ہو ، تب اس وقت تو ہی جماعت ہو ۔

کچھ لوگ قرآن و سنت اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر گامزن داعیوں کی دعوت میں رخنہ ڈالنے کے لیےلفظ "جماعت" کی معنوی تحریف کرکے حزبیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ ہرگز بھی سلف صالحین کا راستہ نہیں ہے ، انہیں چاہیے کہ جو سبز باغ وہ دیکھتے ہیں یا انہیں مخصوص مقاصد کے تحت دکھایا جارہا ہے اس سے باہر نکلیں اور سلف صالحین کا راستہ علماء حق سے معلوم کریں ، ذیل میں علماء حق کے چند حوالہ جات درج کیے جاتے ہیں تاکہ حق کےمتلاشی کو حق تلاش کرنے میں آسانی ہوسکے :

1۔ شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ : انہوں نے  حزبیت کو قرآن اور حدیث میں مزموم فرقہ بندی سے تشبیہ دی ہے ، اور کسی شخص کے کہنے پر دشمنی اور دوستی قائم کرنے کو اس آيت کا مصداق قرار دیا جس میں آیا ہے " مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا " (30 / الروم / 32) تفصیل کےلیے دیکھئے : مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 11 / ص 92 اور ج 20 ص 8 ۔ اور اسے بدعتیوں کا طریقہ قرار دیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 20 / ص 164)۔ حزبیت سے لوگوں میں عداوت پیدا کرنے کو چنگیزیت قرار دیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 28 / ص 16) ۔ کسی شیخ کی طرف اپنی نسبت کرکے اس کی پیروی میں دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اہل ایمان کے ساتھ دوستی قائم کرنے کو واجب گردانا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 11 / ص 512)

2۔علامہ  ابن باز رحمہ اللہ : انہوں نے قرآن اور حدیث پر مبنی ادارے قائم کرنے کو صالح منہج قرار دیا ( مجموع فتاوی ابن باز/ ج 8 / ص 434 ) اور جس شہر میں ایسے ادارے زیادہ سے زیادہ قائم ہوں تو اسے خیر اور برکت قرار دیا ۔  جو شخص تعصب کرتے ہوئے دعوتی کام کرنے والوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو ایسے شخص کی نقاب کشائی کرنے کو واجب قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 4 / ص 136) اور حزبیت کو ترک کرنا واجب قرار دیا ، اور کسی بھی تنظیم کی اندھی تائید کو ناجائز قرار دیا  (مجموع فتاوی ابن باز /ج 7 / ص 182 -184), اور تعصب کیے بغیر قرآن و حدیث کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی تنظیم کے ساتھ دعوتی کام کرنے کو جائز قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 8 / ص 237)۔

3۔علماء سعودی دائمی فتوی کمیٹی : انہوں نے اس جماعت ( تنظیم ، ادارہ ، فاونڈیشن وغیرہ ) کے ساتھ تعاون کرنے کو واجب قرار دیا جوقرآن، سنت ، منہج سلف کے مطابق دعوتی کام کرتی ہو (مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 41 / المجموعۃ الثانیۃ بمطابق المکتبۃ الشاملۃ ) اور دیکھئے : ج 2  ص 237 – 239 ۔ دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  (مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 / دستخط علماء : بكر أبو زيد ، صالح الفوزان ، عبد الله بن غديان ، عبد العزيز آل الشيخ ، عبد الرزاق عفيفي ، عبد العزيز بن عبد الله بن باز)۔

4۔ ڈاکٹر صالح الفوزان : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو انہوں نے حزبیت قرار دیا (اعانۃ المستفید / ج 1 / ص 34، 104) کسی بھی امام ، عالم ، مفتی کی رائے کی اندھی تائید کرنے کو ناجائز قرار دیا ، اور  کسی جماعت ، تنظیم ، دعوتی کام کے لیے بنائے ہوئے(تنظیمی) آئین کی اندھی تائید کرنے کو قرآن اور سنت کے خلاف قرار دیا ہے  (إعانۃ المستفید / ج 1 / ص 119) ۔ کسی جماعت کی بیعت کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیعت صرف مسلمانوں کے ولی امر ( حاکم ) کی جائز ہے (المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان/ ص213 ) ۔

5۔ علامہ بکر ابو زيد  رحمہ اللہ : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عین مخالفت اور تمام آفات کی جڑ  قرار دیا  ، اور اسے اسی فرقہ پرستی سے تشبیہ دی جسے اسلام نے مٹادیا ہے ۔ مزید  انہوں نے حزبیت کی بیماریوں میں یہ بھی شمار کیا ہے کہ اس سے نوجوانوں میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ تنظیم کے بغیر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ہے  ( حکم الانتماء إلی الفرق و الأحزاب  والجماعات الإسلامیۃ / ص 118 ، 119)

6۔ فقیہ العصر  علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو سلف کے منہج کے خلاف قرار دیتے ہوئے طالب علم کے لیے اس سے دور رہناواجب قرار دیا ہے، اور بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ جو ہماری تنظیم میں نہیں ہے وہ ہمارا دشمن ہے  ، اس بات کو انہوں نے خبیث اصول بتایا ہے  (شرح حلیۃ طالب العلم / ص 406 ، 407) ۔ حزبیت والی جماعت کے ساتھ تعاون کو ناجائز قرار دیا ہے ، اور اس کو وہ فرقہ بندی قرار دیا جس نے امت کو بکھیر دیا ہے ( فتاوى نور على الدرب / الطبعة:.الإصدار الأول[1427-2006] / أهل السنة) وہ حزبی بیعت اور عہد نامہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں ،ان کے نزدیک طالب علم کے لیے کافی ہے کہ جس شیخ کے علم ، امانت داری ، دینداری پر اسے بھروسہ ہو اس سے علم حاصل کرے جیسا کہ اسلاف کا طریقہ تھا۔ انہوں نے کہا: احمد ، شافعی ، مالک ، ابو حنیفہ ، سفیان ثوری جیسے ا ئمہ اپنے شاگردوں اور ساتھیوں سے کسی طرح کی بیعت اور عہد نامہ نہیں لیتے تھے۔ خوارج کے سوا کوئی بھی اس طرح کی بیعت یا عہد نامہ نہیں لیتا تھا جس کے تحت وہ  سختی اور آرام ، جنگ اور امن میں پابند رہے۔  (کیسٹ بعنوان :" أسئلة أبي الحسن للشيخين ابن باز وابن العثيمين" یہ ریکاڑنگ مکہ مکرمہ میں 6 ذو الحجہ سن 1416 ھ میں ہوئی ہے ) تنظیموں کی طرف بلانے والے اپنے آپ پر اور اپنے بھائیوں ( ساتھیوں ) پر جنایہ (زیادتی)  کرتے ہیں (لقاء الباب المفتوح / ملاقات نمبر 60 / ص 33) ۔ 

7 ۔ محدث العصر  امام البانی رحمہ اللہ :   حزبیت پر رد کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ہم صراحت کے ساتھ حزبیت کے خلاف لڑ رہے ہیں (شرح حلیۃ طالب العلم / ص 407)۔  ان سے ایک سوال کیا گیا کہ بعض اسلامی جماعتیں سلفی عقیدہ کی طرف دعوت دیتی ہیں ، اور ایک عمومی امیر منتخب کرتی ہیں پھر اس کے تحت ذیلی امراء ہوتے ہیں پھر اپنے ممبروں کو ان امیروں کی اطاعت لازمی قرار دیتی ہیں ، وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ شرعی امارت ہے ، اس کی اطاعت واجب ہے اس کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، اور اس حدیث  سے استدلال کرتے ہیں : "وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " ( بخاری / 7135) یعنی: جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ تو  امام البانی نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضعیف استدلال ہے ، کیوں کہ اس کو کس نے امیر بنایا ہے ؟!( ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امیر نہیں بنایا ہے لہذا اس طرح کا استدلال کرنا صحیح نہیں ہے) ۔  اس طرح کرنے سے امت میں تفرقہ اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے، اور انہوں نے مختلف قسم کے اہداف والی  متعدد تنظیمیں بنانے کی تائيد کی بشرطیکہ وہ قرآن اور سنت کے منہج کے مطابق ہوں ۔ (المنھج السلفي عند الشیخ ناصر الدین الالباني / ص  230-233) اور دیکھئے :  سلسلة الهدى والنور (کیسٹ نمبر/371)   (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=43935)

حزبی اگرچہ یہ اعتراف نہ بھی کرے کہ وہ حزبیت چلا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے کاموں سے اس کی حزبیت صاف عیاں ہوتی ہے (کیسٹ نمبر840)

8 ۔  الشیخ أبو عبدالرحمن عقيل بن محمد بن زيد المقطري:

تنظیموں کا ایک دوسرے سے آگے جانے کے لیے ( خلافت کی ) بیعت والی احادیث سے لوگوں کو ڈرا کر اپنی تنظیم میں شامل کرنا صحیح نہیں ہے (قواعد الاعتدال لمَن أرادَ تقويم الجماعات وَالرِجَال/ ص 24) ۔

9 ۔الشیخ مقبل بن هادي الوادعي رحمه الله تعالى : وہ حزبیت سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں ، اور بدعتی ،اور حزبی ( تنظیمی مقلد ) کی اچھائیوں کو بیان نہ کرنے کو کہتے ہیں (تحفة المجيب على أسئلة الحاضر والغريب/ ص 65 ، 135) ۔ جو شخص اپنی جماعت کے ساتھ دوستی اور دوسروں کے ساتھ دشمنی کرے وہ گمراہ بدعتی ہے (غارة الأشرطة/2/28) ۔

10 ۔  الشيخ عبيد الجابري(اسلامک یونیورسٹی مدینہ طیبہ کے سابق استاد ): وہ تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرکے یہ کہنے سے منع کرتے ہیں کہ کوئی یہ کہے کہ یہ فلاں تنظیم یا ادارہ سے تعلق رکھتا ہے لہذا وہ ہمارے پاس نہ آئے ۔ (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=43935)

11 ۔  الشيخ أبي عبد المعز فركوس حفظه الله (اسلامک یونیورسٹی  الجزائر کے مدرس ) : جو تنظیم  دوستی اور دشمنی کا معیار تنظیمی بنیاد پر قائم کرے، یا امیر کی باتوں کو بلا دلیل اصول بنا لے ، اور تنظیم کی آراء کو قطعیۃ الثبوت بنادے جن میں نقد  ممکن نہ ہو تو وہ حزبی تنظیم ہے  اگر چہ اس کا نام اسلامی بھی ہو ،  اس اعتبار سے یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی کھلی مخالفت  اور دشمنی ہے کیوں کہ دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان کی بنیاد ہے ۔ (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=39127)

12۔  الشیخ اسعد اعظمي بن محمد انصاری ( جامعہ سلفیہ بنارس ، ہند کے استاد ) : حزبیت مسلمانوں کی جماعتوں اور صفوں میں گھس گئي ہے  ، وہ ان کے ذہنوں اور دلوں پر چھا چکی ہے  جس کی وجہ سے ایمانی بھائی چارہ اور اسلامی وحدت کا کوئی معنی باقی نہ رہا  (صوت الخریجین  ، عدد 4 / فروری 2014 / ص 47 )

13 ۔  ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ : موجودہ دور میں مشاہدہ بتلاتا ہے کہ جماعت کے بہت سے افراد میں گروہ بندی و تحزب کا مزاج پیدا ہوگیا ہے ، جماعت سے ایسے لوگوں کی وابستگی حق پرستی اور صلاحیت کردار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جماعت کے ساتھ دینے اور ہمنوائی کی بنیاد پر ہے ، جماعت کے لئے یہ مرض بیحد مہلک ہے  ۔۔۔ (ہندوستان میں تحریک اہل حدیث اور جدید تقاضے ص 26 -28 )

14 ۔  الشیخ علامہ احمدبن یحیی النجمي رحمہ اللہ (المعہد العلمی جازان سعودی عرب کے مدرس ، اور شیخ ربیع بن ہادی کے استاد): انہوں نے حزبیت کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مرتکب اہل سنت و جماعت سے خارج ہے (الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية " (2/249) حزبیت کی بدعت کی مزمت قرآن اور حدیث میں بہت سی جگہوں میں آئی ہے۔ حزبیت کو انبیاء علیہم السلام کے طریقے سے خارج قرار دیا ہے (المورد العذب الزلال /ص150)

15 ۔ الشیخ علامہ ربيع بن هادي المدخلي حفظه الله : وہ اللہ کی قسم کھاکر  حزبیت کو بدعت قرار دیتے ہیں ، بلکہ حزبی کو عام بدعتیوں سے بھی سخت شر قرار دیتے ہیں کیوں کہ جو حزبی ہوتا ہے وہ اہل سنت و جماعت کو ستانے سے اور اہل بدعت اور اہل باطل کی دوستی سے باز نہیں رہتا ہے، ایسا شخص کسی طرح سلفی نہیں ہوسکتا ہے ۔ (مجموع كتب ورسائل وفتاوى العلامة المجاهد ربيع المدخلي / 14/161 ،162)۔

16 ۔  الشيخ علامہ زيد بن محمد بن هادي المدخلي حفظه الله(المعھد العلمي سامطۃ جازان سعودی عرب کے استاد، اور شیخ احمد النجمی کا شاگر) : تنظیم (حزب ) میں الولاء و البراء ( دوستی اور دشمنی ) کی بدعت قائم کرنے،  اور جو تنظیم کے آئین کی دفعات سے اتفاق نہ کرے اسے برا سمجھنے وغیرہ کو منہج اہل سنت و جماعت سے خارج قرار دیا ہے (الأجوبة المختصرة على الأسئلة العشرة "ص96)۔

17 ۔  الشیخ عبد اللہ غدیان (عضو سعودی دائمی فتوی کمیٹی): دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو:  مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 )

18 ۔  الشیخ عبد العزیز آل شیخ (صدر سعودی دائمی فتوی کمیٹی ) : دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو:  مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 )

19 ۔   الشیخ عبد الرزاق عفیفی(عضو سعودی دائمی فتوی کمیٹی) : دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو:  مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74)

20 ۔ ڈاکٹر صالح بن عبد الله بن حميد: اللہ کے لیے ایمانی بھائی چارہ قائم کرنے کو داعی کے اہم صفات میں گردانا ، اور تعصب و حزبیت سے دور رہنا لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دعوت اور داعیوں کے آپسی تعاون پر حزبیت سے کوئی اور چیز زیادہ ضرر رساں نہيں ہے ۔ حزبیت کے عیوب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنظیم پرست  صرف اپنی تنظیم کی کتابیں پڑھتا ہے اور تنظیم کے شیخ کے بغیر کسی کا شاگرد نہیں بنتا ہے (مجلة البحوث الإسلامية/ ج 51 / ص216 ، 221 ، 222)۔

                               تحریر بتاریخ : 9 جنوری 2016