مجھے ياد رکھیں

نماز عید کے احکام

( ماخوذ از : أحكام صلاة العيد / الشيخ خالد بن علي المشيقح /  التاريخ : 29/9/1433 هـ)

ترجمہ : فردوس احمد بٹ ، پاریگام پلوامہ ، طالب علم : ھیئۃ الطلاب المسلمین جموں و کشمیر MSB ، مراجعہ: ھارون رشید خواجہ، بتاریخ :  24 ستمبر 2015

 

                                         بسم الله الرحمن الرحيم

             الحمد للہ و الصلاۃ و السلام علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ أجمعین، أمابعد:

عید کا لغوی معنی :  عید، لوٹنے اور بار بار آنے کو کہتے ہیں ،  عید کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ لوٹ کر آتی ہے یا دوسری بار اس کے لوٹنے کی امید کی جاتی ہے اور اس لئے بھی  کیونکہ یہ خوشی اور مسرت لےکر لوٹتی ہے۔

            نماز عید قرآن و سنت اور مسلمانوں کے اجماع کے مطابق مشروع ہے۔ مشرکین زمانی اور مکانی  (وقت اور جگہ کے اعتبار سے)عیدیں منایا کرتے تھے، پھر اسلام نے ان عیدوں کو باطل قرار دیا اور ان کے بدلے میں دو عظیم عبادتوں : رمضان کا روزہ اور حج بیت اللہ کرنے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لئے عید الفطر اور عید الأضحی مقرر  کرلی۔

حضرت نبی کریم ﷺ کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے مدینہ منورہ تشریف لایا تو اس وقت وہاں کے لوگ دو  دنوں  میں کھیلا کرتے تھے تو آپ  ﷺ  نے فرمایا:

  "  قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما : يوم النحر ، ويوم الفطر"

 یعنی اللہ تعالی نےتمہیں ان دو دنوں کےبدلے میں ان سے بہتر دو دن دیے ہیں :  قربانی کا دن (عید الأضحی) اور افطاری کا دن (عید الفطر) [اس حدیث کوامام احمد، ابو داوود ، نسائی وغیرہ نے بروایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے] (امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے : الصحیحۃ / 2021 ، مراجع)

            ان دو عیدوں پر عید میلاد وغیرہ  جیسی دوسری عیدیں ایجاد کرکے اضافہ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالی کی شریعت میں اضافہ کرنا ہوجاتا ہے، اور دین میں بدعت گھڑنا  بن جاتا ہے۔ سید المرسلین  ﷺ  کی سنت کی مخالفت ہے اور کافروں کے ساتھ مشابہت ہے ،چاہے انہیں عیدیں ، یاداشات ، دن ، ہفتے یا سال نام دیے جائے،ایسا کرنا اسلام کا طریقہ کار نہیں ہے،  بلکہ یہ تو جاہلیت کا کام ہے  اور مغربی ممالک وغیرہ کے کافر قوموں کی تقلید ہے ۔حضرت نبی کریم  ﷺ نے فرمایا ہے:

 "من تشبہ بقوم فھو منھم" (إمام احمد اور ابو داوود نے اس حدیث کو نقل کیا ہے) (امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے : الجامع / 11094 ، مراجع)

یعنی جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں سے( شمار ) ہے۔

 اور نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا:  "إن أحسن الحديث كتاب الله ، وخير الهدي هدي محمد ، وشر الأمور محدثاتها ، وكل بدعة ضلالة"  (اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)

 یعنی :   سب سے اچھا کلام اللہ تعالی کی کتاب ہے اور سب سے اچھا راستہ حضرت محمد  ﷺ  کا راستہ ہے،  سب سے بری چیز یں( دین میں ) نئی چیزیں ہیں ، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

مسئلہ :   نماز عید کی مشروعیت کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

  ’’ فصل لربک وانحر‘‘  (الکوثر :۲) 

یعنی :  آپ  اللہ کے لئے نماز ادا کرو اور قربانی کرو۔ 

اور ان کا یہ فرمان ’’  قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى ‘‘  (الأعلی : ۱۵)

 یعنی :  یقینا وہ شخص کامیاب ہوا جس نے پاکی حاصل کی اور اللہ کے نام کی ذکر اور نماز ادا کی ۔

  حضرت نبی کریم  ﷺ اور ان کے بعد خلفاء راشدین نے نماز عید ادا کرنے پر ہمیشگی اختیار کی۔

نماز عید کا شرعی حکم:   نماز عید کا حکم یہ ہے کہ یہ ہراس مسلمان مرد، مکلف پر فرض عین ہے جس کو کوئی عذر نہ ہو ، کیونکہ حضرت بنی کریم  ﷺ   نے اسے ادا کرنے کا حکم دیا حتی کہ عورتوں کو بھی ۔ ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہے :

" كنَّا نؤمر أن نخرج يوم العيد ، حتى تخرج البكر من خدرها ، وحتى تخرج الحيض فيكنَّ خلف الناس ، فيُكبِّرن بتكبيرهم ، ويدعون بدعائهم؛ يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته"  [متفق علیہ]

یعنی: ہم کو (دور نبی  ﷺ  میں )عید کے دن نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ کنواری عورت بھی پردے میں سے نکلتیں اور حائضہ بھی نکلتیں، وہ لوگوں کے پیچھے رہتیں ، مردوں کے ساتھ تکبیریں کہتیں اور ان کی دعا میں شریک ہوتیں، اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔

عورتوں کا نماز عید کے لئے نکلنا مسنون ہے لیکن وہ عطر لگاتی ہوئی اور بے پردہ نہ ہوں۔

(نماز عید کے حکم کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے ، امام مالک اور شافعی نے اسے سنت مؤکدۃ کہا ہے ، ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر واجب ہے جس پر نماز جمعہ واجب ہے ، امام احمد کے نزدیک فرض کفایہ ہے ، شوکانی ، البانی کے نزدیک واجب ہے ، صنعانی ، صدیق حسن کے نزدیک فرض عین ہے ، ملاحظہ ہو : فقہ الحدیث / ج ا / ص 522 / مراجع)

مسئلہ:   نماز عید علاقے کے قریب ہی کسی میدان میں ادا کرنا مسنون ہے، کیونکہ حضرت محمد  ﷺ عیدین کی نمازیں باب المدینۃ کے پاس مصلی ( عید گاہ) میں  ادا کرتے تھے ۔ ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:

" كان النبي صلى الله عليه وسلم يخرج في الفطر والأضحى إلى المصلى"  [متفق علیہ]

 یعنی:   نبی  ﷺ  عید الفطر اور عید الأضحی کے دن  (نماز عید ادا کرنے کے لئے)مصلی (عید گاہ) کی طرف نکلتے تھے ۔

اور یہ ثابت نہیں ہے  کہ انہوں نے نماز عید بغیر کسی عذر کے مسجد میں ادا کی ہو۔  اور میدان (عید گاہ) کی طرف نکلنا مسلمانوں اور اسلام کے دبدبہ کے لئے زیادہ مؤثرہے۔شعائر دین (یعنی دین کی کھلی علامات) کے لئے زیادہ نمایا ہے اور اس میں کوئی مشقت بھی نہیں ہے کیونکہ یہ جمعہ کی طرح بار بار نہیں  ہے،   البتہ  مکہ شریف میں عید نماز مسجد حرام میں ہی ادا کی جائے گی ۔ اگر کہیں بارش یا بھیڑ کا عذر ہو تو اور وہاںمساجد میں اس کا ادا کرنا جائز ہے۔

نماز عید کا وقت :   جب سورج ایک نیزے (تقریبا ۳ میٹر) کے برابر بلند ہوگا تو نماز عید کا وقت شروع ہوگا کیونکہ حضرت بنی کریم  ﷺ  اسی وقت نماز عید ادا کرتے تھے(امام البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد بہت ہی سویرے نماز ادا کرنے کے دلائل ثابت ہیں، مراجع )۔ اور اس کا آخری وقت سورج کے زوال ہونے (یعنی نصف النھار) تک ہے ۔ اگر عید کے ہونے کا پتا زوال ہو جانے کے بعد چلے تو اگلے دن نماز عید کو بطور قضاء ادا کیا جائے کیونکہ ابو عمیر بن انس نے انصار میں سے اپنے چچاوں  سے روایت کی ، انہوں نے کہا: 

" غم علينا هلال شوال فأصبحنا صياما فجاء ركب من آخر النهار فشهدوا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إنهم رأوا الهلال بالأمس فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفطروا من يومهم وأن يخرجوا لعيدهم من الغد" [احمد، ابوداوود،دار قطنی و حسنہ] (امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے : ارواء 634، مراجع)

یعنی: (ایک دفعہ) ہم لوگوں کے لئے شوال کا چاند واضح نہ ہوا تو ہم نے اگلے دن بھی روزہ رکھ لیا ،دن کے آخری حصے میں کچھ سفر کرنے والے لوگ آئے اور رسول اللہ  ﷺ  کے سامنے گواہی دی کہ انہوں نے کل رات (شوال کا)چاند دیکھا تھا، تو رسول اللہ  ﷺ  نے انصار کو حکم دیا کہ(دن ہی میں) روزے کھول دیں اور اگلے دن صبح اپنی عید کی نماز ادا کرنے کے لئے اپنے مصلی (عید گاہ) جائیں۔

عید کے دن مسنون کام:

۱۔ عید الفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلنے سے پہلے کھجور کھانے اور عید الأضحی کی نماز ادا کرنے سے پہلے کچھ نہ کھانا سنت ہے، جیسا کہ حدیث بریدہ میں ہے: 

"كان النبي صلى الله عليه وسلم لايخرج يوم الفطر حتى يفطر ، ولا يطعم يوم النحر حتى يصلي" [اسےاحمد ،  ترمذی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، ا ور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے]

 یعنی:   نبی ﷺ عید الفطر کے دن (نماز عید کےلئے)کچھ کھانے سے پہلے نہیں نکلتے تھے اور عید الأضحی کے دن نماز (عید)ادا کرنے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے۔

۲۔ نماز فجر کے بعد نماز عید ادا کرنے کے لئے سویرے نکلنا مسنون ہے،  جیساکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، تاکہ امام کے قریب جگہ پائے اور نماز کے لئے انتظار کرنے کا ثواب بھی مل جائے گا تو اس کے ثواب میں اضافہ ہوگا۔

۳۔       نماز فجر کے بعد غسل کر کے خوبصورتی (زینت) اختیار کرنا بھی مسلمان کے لئے مسنون ہے۔ کیونکہ کہ ایسا کرنا صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، جیسے ابن عمر ( رضی اللہ عنہ ) سے ، اور اچھے کپڑے پہننا بھی مسنون ہے یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔

نماز عید ادا کرنے کا طریقہ:

نماز عید خطبے سے پہلے دو رکعتیں ہیں جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: 

" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبوبكر وعمر وعثمان يصلون العيدين قبل الخطبة))[متفق علیہ]

یعنی : اللہ کے رسول ﷺ ، حضرت ابو بکر ، حضرت عمر،اور حضرت عثمان( رضی اللہ عنہم) نماز عید خطبے سے پہلے ادا کرتے تھے ۔

یہی سنت رائج ہوئی اور اسی پر سب اہل علم تھے( امام )ترمذی نے کہا:

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل علم صحابہ (رضی اللہ عنہم) و غیرہ کے ہاں اس پر عمل ثابت ہے کہ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے ہے " ۔

 نماز عید کی دو رکعتیں ہیں اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے بخاری ، مسلم اور دیگر کتابوں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:  

" أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج یوم الفطر، فصلی رکعتین لم یصل قبلھا ولا بعدھا"

 یعنی: نبی کریم  ﷺ  عید الفطر کے دن (گھر سے) نکلے اور دو رکعتیں (نماز عید) ادا کی،   انہوں نے ان سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز  نہیں پڑھی۔

مسئلہ:  نماز عید کے لئے اذان اور اقامت مشروع نہیں ہے جیسا کہ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے ، اس نے کہا:

  " صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم العيد غير مرة لا مرتين ، فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة " ۔

یعنی :   میں نے کئی دفعہ نبی ﷺ کے ساتھ نماز عید ادا کی تو انہوں نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز سے آغاز کیا۔

پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور ثناء کے بعد اور تعوذ اور قرأت سے  پہلےچھ تکبیرات کہنے ہیں اور امام شافعی کے نزدیک سات تکبیرات ہیں (ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجۃ وغیرہ میں مرفوعا پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ زائد تکبیرات ثابت ہیں ، امام البانی نے ان احادیث کو صحیح کہا ہے ، مراجع)تکبیر تحریمہ رکن ہے  اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی تکبیرات سنت ہیں، تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھنی ہےکیونکہ نماز کے شروع میں ثناءپڑھنا سنت ہے۔ پھر ثناء کے بعد باقی چھ یا سات تکبیرات کہنی ہیں پھر ان چھٹی یا ساتوی تکبیر کے بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ہے کیونکہ قرات کے لئے تعوذ اور تسمیہ پڑھنا سنت ہے پھر اس کے بعد قرأءت کر لے۔

            دوسری رکعت میں قرات سے پہلے تکبیر انتقال(کھڑا ہونے کی تکبیر) کو چھوڑ کر پانچ تکبیریں کہنی ہے جیسا کہ امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے  عمرو بن شعیب  سےروایت کی ہے اس نے  اپنے باپ سے  اوراس نے اپنے دادا سے روایت کی ہے :

" أن النبي صلى الله عليه وسلم كبَّر في العيد ثنتي عشرة تكبيرة ، سبعاً في الأولى ، وخمساً في الأخيرة" (امام البانی نے اسے حسن کہا ہے ، مراجع)۔

یعنی :  نبی  ﷺ نے نماز عید میں بارہ تکبیریں کہی:  پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ۔  [اس روایت کی سند حسن ہے اس کے شواہد حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا وغیرہ سے ملتے ہیں]

            تکبیرات کی تعداد میں اس سے مختلف روایتیں  بھی نقل کی گئی ہیں، امام احمد کہتے ہیں:

 " اختلف أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في التكبير ، وكله جائز " . یعنی: تکبیر (کی تعداد)میں بنی ﷺ کے صحابہ  ( رضی اللہ عنہ )نے اختلاف کیا اور سب جائز ہے۔

            نمازی ہر تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھالے (رفع یدین کرے) کیونکہ  حضرت نبی کریم ﷺ  ہر تکبیر کے وقت رفع الیدین  کرتے تھےاورایسا کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جنازے کی تکبیرات کے متعلق مروی حدیث میں آیا ہے اسے امام دار قطنی نے روایت کیا اور شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ، اور جنازے کے تکبیرات کے وقت ہاتھ اٹھانے کے بارے میں دلائل آئی ہیں ان کی بناء پر بھی (عیدین کی تکبیرات کے وقت رفع یدین  کرے) ۔ ( عید کی زائد تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین میں علماء میں اختلاف ہے ، شافعی ، احمد ، اوزاعی ، عطا کے نزدیک رفع یدین کیا جائے ، اور ابن حزم ، مالک ، ثوری البانی کے نزدیک نہ کیا جائے ، البانی نے ابن عمر کے  اس اثر کے بارے میں کہا  میں نے اسے اب تک کہیں نہیں پایا جس میں کہا گیا ہے کہ ابن عمر ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے، مراجع  )

اگر (امام) زائد تکبیرات بھول جائے یہاں تک وہ قرأءت شروع کرے تو تکبیرات ساقط ہو جاتے ہیں(یعنی ان کے بغیر نماز درست ہوجائے گی) کیونکہ زائد تکبیرات سنت ہیں، اب ( بھول جانے کی وجہ سے ) ان کا موقعہ چلا گیا۔  اور اسی طرح جب مقتدی امام کو اس حال میں پالے کہ اس نے قرأءت شروع کی ہو ،  تو وہ زائد تکبیرات نہیں کہے گا ،یا جب وہ اسے رکوع کی حالت میں پا لے گا تو تکبیر تحریمہ کہے گا اور رکوع کرے گا اور وہ تکبیرات کی قضا کرنے میں مشغول نہ ہوجائے ۔  

            نماز عید دو رکعتیں ہیں جن میں امام بلند آواز میں قرأءت کرے گا جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :

" كان النبي صلى الله عليه وسلم يجهر بالقراءة في العيدين والاستسقاء"

یعنی :  نبی  ﷺ  عیدین اور استسقاء کی نمازوں میں جہری قراءت کرتے تھے [اس حدیث کو دار قطنی نے روایت کیا ہے] (اس حدیث کو اگرچہ امام البانی نے ضعیف بھی کہا ہے ، لیکن عیدین کی قراءت کے بارے میں صحیح ثابت ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  عیدین میں سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھتے تھے ، اسے مسلم نے روایت کیا ہے ، لہذا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب انہوں نے جہرا قراءت کی ہوگی تبھی صحابہ نے سنی ، جیسا کہ البانی نے بھی کہا ہے / ارواء / ج 3 / ص 116 ، مراجع )

  جہری قراءت کرنے پر علماء کا اجماع ہے اور سلف سے خلف  نے نقل کیا  ہے اور اسی پر مسلمان عمل کرتے آئے ہیں۔

(امام) پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سبح اسم ربک الأعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیۃ پڑھے جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ: نبی ﷺ عیدین کی نمازوں میں سبح اسم ربك الأعلى اور  هل أتاك حديث الغاشية پڑھتے تھے (مسلم) یا پہلی رکعت میں سورۃ  ق  اور دوسری رکعت میں  سورۃ  اقتربت  (الساعۃ)  پڑھ لے  ۔(امام مسلم نے أبوواقد الليثي رضي الله عنه سے اس حدیث کو روایت کیا ہے)

            پھر جب امام سلام پھیرے تو لوگوں کو خطبہ دے۔ بعض علماء نے امام پر خطبہ دینا واجب قرار دیا ہے اور مقتدی کو چاہئے کہ خطبہ ختم ہونے سے پہلے نہ نکلے ۔

بخاری و مسلم اور دیگر کتابوں میں آیا ہے : " بدأ بالصلاة ، ثم قام متوكئاً على بلال ، فأمر بتقوى الله ، وحثَّ على طاعته"

 یعنی: (حضرت نبی ﷺ نے )نماز سے آغاز کیاپھر حضرت بلال پر ٹیک لگا کر ( سہار لے کر ) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اللہ تعالی کے تقوی کا حکم دیا اور انہیں اس کی اطاعت کی طرف رغبت دی۔

امام  کو چاہئے کہ خطبہ عید کے دوران عورتوں کے لئے خاص نصیحتیں کرے کیونکہ نبی  ﷺ نے جب دیکھا کہ اس کی آواز عورتوں تک نہیں پہنچتی ہے تو وہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے پر راغب کیا ۔اور اسی طرح سے خطبہ عید کے موضوع میں سے عورتوں کے لئے بھی کچھ حصہ ہونا چاہئےکیونکہ ان کو اس کی ضرورت ہے اور نبی  ﷺ  کی پیروی کی خاطر بھی۔

مسئلہ:  جب مصلی ( عید گاہ )  آئے تو تکبیرات پڑھنے میں لگ جانا مسنون ہے، کیونکہ اس وقت تکبیرات کا کہنا مشروع ہے، اگر مسجد میں نماز عید ہو رہی ہو تو نوافل میں سے صرف تحیۃ المسجد( دورکعت )پر اکتفاء کرے، اگر مسجد میں نہ پڑھی جا رہی ہو تو عید نماز کی مصلی (عیدگاہ ) کے لیے کوئی تحیۃ ( نفل نماز ) نہیں ہے،  جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے  :

" خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوم عيد ؛ فصلى ركعتين لم يصل قبلهما ولا بعدهما" ۔ (متفق علیہ)

 یعنی:  نبی  ﷺ عید کے دن نماز کے لئے نکلے تو انہوں نے دو رکعتیں نماز عید پڑھ لی ، اس سے پہلے اور  بعد میں کوئی نماز  نہیں پڑھی۔

اور اس لئے بھی کہ تاکہ کسی کو یہ گمان نہ ہو جائے کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی سنت نماز ہے ۔

            جب مسلمان اپنے گھر  لوٹے تو اس میں نماز ادا کرنا مسنون ہے ،جیسا کہ امام احمد وغیرہ نے روایت نقل کی ہے:

جب حضرت نبی ﷺ (نماز عید کے بعد)  گھر واپس لوٹے تو وہ دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔  (مستدرک حاکم میں ان الفاظ کے ساتھ روایت ہے : " كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رجع من المصلى صلى ركعتين " / 1102 / ذھبی نے اسے صحیح کہا ہے، مراجع)

اور اس لیے بھی کہ نماز ضحی کی مشروعیت کی  دلائل کے عموم کی بناء پر بھی (گھر لوٹتے وقت دو رکعت نماز پڑھنا مسنون ہے)۔

نماز عید کی قضاء:

جس شخص سے نماز عید میں سے کچھ چھوٹ جائے تو اس پر اس کی قضاء کرنا مع زائدتکبیرات مشروع ہے کیونکہ قضاءکرنا( مکمل ) ادا کرنے کاتقاضا کرتی  ہے، اور اس لیے بھی کہ  ابو ہریرۃ  سے مروی حدیث میں نبی ﷺ کے فرمان کے عموم کی وجہ سے ( جس میں آیا ہے ) :

 " فما أدركتم فصلّوا ، وما فاتكم فأتمّوا " (بخاری / 650)

 یعنی:  جو کچھ تم امام کے ساتھ پالو وہ  ادا کر لو اور جو چھوٹ جائے اسے بعد میں مکمل کر لو ۔

 اگر مقتدی کو ایک رکعت چھوٹ جائے تو وہ بعد میں اور ایک رکعت پڑھ لے۔

عید کے دن تکبیرات پڑھنا:

عید کے دن تکبیر مطلق یعنی جس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہے پڑھا مسنون ہے ،تکبیر بلند آواز سے پڑھ  لے  البتہ خاتون بلند آواز سے نہ پڑھے۔ دو عیدوں کی دو راتوں میں اور پورے عشر ذی الحجۃ میں تکبیر (مطلق) پڑھی جائے گی اللہ کے فرمان کے مطابق:

"  ولتكملوا العدة ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون"   (البقرۃ: 185)

یعنی:( اللہ تعالی چاہتا ہے کہ )تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔

تکبیر مطلق عید الفطر پر عید کی رات میں مغرب کی نماز سے لے کر امام کے نماز کی  شروعات کرنے تک ہے۔

اور عید الأضحی پر ذی الحجہ کے مہینے کے پہلے دن طلوع فجر سے لے کر ایام تشریق ختم ہونے یعنی ۱۳ ذی الحجہ کی مغرب نماز  تک ، اللہ تعالی کے اس فرمانے کے مطابق: 

"واذكروا الله في أيام معدودات"  (البقرۃ: ۲۰۳)

یعنی: اور اللہ تعالی کی یاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو۔

ابو ہریرۃ اور ابن عمر  رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی گئی ہے کہ وہ بازاروں کی طرف نکلتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ،امام بخاری نے اسے صيغه جزم کے  ساتھ تعلیقا ذکر کیا ہے،  اور دوسری حدیث میں آیا ہے کہ:

أَنَّ عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُكَبِّرُ فِى قُبَّتِهِ بِمِنًى (سنن البیهقي الکبری / 6489)

 ابن عمر رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے تھے۔

امام بخاری نے اسےصيغه جزم کے  ساتھ تعلیقا ذکر کیا ہے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں وارد ہے :

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكَبِّرُ بِمِنًى تِلْكَ الْأَيَّامَ وَخَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَعَلَى فِرَاشِهِ وَفِي فُسْطَاطِهِ وَمَجْلِسِهِ وَمَمْشَاهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ جَمِيعًا "

 یعنی : ابن عمر ان دنوں - منی کے دنوں- اور نماز وں کے بعد اور اپنے بستر پر اور اپنے خیمے (ٹھکانے) میں اور اپنی بیٹھک میں اور راستے میں ان سب دنوں میں تکبیرات کہتے تھے۔  [ امام بخاری نے صيغه جزم کے  ساتھ اسے تعلیقا ذکر کیا ہے] ( بخاری / کتاب الجمعۃ /  بَاب التَّكْبِيرِ أَيَّامَ مِنًى وَإِذَا غَدَا إِلَى عَرَفَةَ )

 اور حضرت نُبَيْشَةَ الْهُذَلِىِّ ( رضی اللہ عنہ ) کی مرفوع حدیث میں آیا ہے :

« أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ». ( مسلم / کتاب الصوم / باب تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ )

یعنی :  ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ - عز و جل -  کی ذکر کرنے کے دن ہیں۔[مسلم]

            تکبیرات بلند آواز سے گھر ، بازار مساجد میں اور ہر اس جگہ پر جہاں پر اللہ تعالی کی ذکر کرنا جائز ہے،  پڑھنے چاہیے ، اور عید گاہ کی طرف نکلتے وقت بھی اسے بلند آواز کہا جائے. جیساکہ امام دار قطنی وغیرہ نے روایت کی ہے:

"  أن ابن عمر كان إذا غدا يوم الفطر ويوم الأضحى يجهر بالتكبير حتى يأتي المصلى ثم يكبر حتى يأتي الإمام "  ( امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے / ارواء  / 650 ، مراجع )

یعنی :  جب ابن عمر عید الفطر اور عید الاضحی  کے دنوں (عید گاہ کی طرف) نکلتے تو بلند آواز سےتکبیر کہتے تھے  یہاں تک کہ عید گاہ پہنچ جاتے پھر وہاں تکبیر کہتے یہاں تک کہ امام آجاتا۔

صحیح  بخاری میں ام عطیہ کی حدیث ہے :

" كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ يَخْرُجَ الْحُيَّضُ فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ وَيَدْعُونَ " (بخاری / 304)

یعنی :  ہمیں  حکم دیا جاتا تھا کہ  حائضہ ( خواتین بھی ) نکلیں اور ان کی تکبیر سے تکبیر کہیں اور دعا کریں ۔  

 اور صحیح مسلم میں " يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ " آیا ہے  ۔ یعنی : وہ بھی لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں۔  (مسلم / باب ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِى الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ مُفَارِقَاتٍ لِلرِّجَالِ، مراجع )

   تو بلند آواز سے تکبیر کہنا سنت ہے کیونکہ اس میں اسلام کے شعائر کا اظہار ہے ۔

عید الفطر کے موقع پر تکبیر کہنا:

اس کی ( اس موقع پر ) زیادہ تاکید کی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

" ولتكملوا العدة ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون " (البقرۃ:۱۸۵)

یعنی : (للہ تعالی چاہتا ہے کہ )تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔

عید الأضحی میں اس کے علاوہ مقید تکبیر کہنے بھی مشروع ہے یعنی وہ تکبیریں جو نمازوں کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔

            عرفہ کے دن کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی عصر نماز تک نماز کے بعد تکبیر مقید پڑھی جائیں کیونکہ اس کا ثبوت صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) سے صحیح سندوں سے ملتا ہے جیسے کہ عمر ، علی، ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے۔

 تکبیر کا طریقہ: یہ  کہا جائے :  الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ، والله أكبر الله أكبر ولله الحمد.

ایسا   استغفار اور  "  اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام"  کے بعد کہا جائے۔

 

عید کی مبارکبادی دینا:

لوگوں کا آپس میں عید کی مبارک بادی دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے کہ  ایک دوسرے کو کہا جائے :  

 " تقبل الله منا ومنك " یعنی :  اللہ تعالی ہمار  ے اور تمہارے نیک اعمال قبول فرمائے:

 شیخ  الإسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وہ مبارک بادی کہتے تھےاور اس میں ائمہ جیسے امام احمد وغیرہ نے چھوٹ دی ہے (فتاوی ابن تیمیہ / ج 24 / ص253  )۔

            مبارک بادی کا مقصد محبت اور خوشی کا اظہار کرنا ہے،  اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا :

 میں مبارک بادی دینے میں پہل نہیں کرتا ہوں اگر کوئی مجھے مبارک بادی دے تو میں اس کا جواب دوں گا ،  اور وہ اس لئے کیونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے،  رہی بات مبارک بادی میں پہل کرنے کی ، تو یہ کوئی  ایسی سنت نہیں ہے جس کا حکم دیا گیا ہو،  اور نا ہی اسے منع کیا گیا ہے۔

اور مبارک بادی میں مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔