مجھے ياد رکھیں

قرآن کریم کے ساتھ ادب

( ماخوذ از : موسوعة الآداب الإسلامیة، ج 1 ص 20 ، اعداد : فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن محمد المعتاز )

ترجمہ : عرفان احمد راتھر ، طالب علم : ھیئۃ الطلاب المسلمین جموں و کشمیر MSB ، مراجعہ: ھارون رشید خواجہ ، بتاریخ :  13 ستمبر 2015

اللہ تعالی نے فرمایا : [ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ۔ وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ۔ وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ] (الإسراء : 107 – 109 )

یعنی : بے شک وہ ( لوگ ) جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس جب بھی اس ( یعنی قرآن ) کی تلاوت کی جاتی ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدوں میں گر پڑتے ہیں ۔ اور  کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ ضرور واقع ہو کر رہنے ہی والا ہے ، اور وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے ( سجدوں میں ) گر پڑتے ہیں ، اور یہ (یعنی تلاوت قرآن) ان کا خشوع ( و خضوع ) بڑھا دیتا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

[ يَا أَبَا ذَرٍّ، لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ ] ( ابن ماجة : 219   ، اس کی سند حسن ہے) ( امام البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے، مترجم)

یعنی : اے ابوذر ( رضی اللہ عنہ ) ! اگر تم صبح ( گھر سے ) نکلو گے اور کتاب اللہ میں سے ایک آیت کا علم حاصل کروگے ، تو یہ  تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم ایک سو رکعت نماز پڑھو ۔     

قرآن کریم کے ساتھ ادب میں سے ( یہ بھی ) ہے ( کہ اس کی )قراءت سے پہلے وضو  اور مسواک کرنا ، اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہونا ، اور اس کی ( یعنی قرآن کی ) قراءت کے وقت خشوع و ادب کے ساتھ بیٹھا جائے ، اور  اس کی تلاوت ( اس طرح کی جائے ) جس طرح اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے ، اور اس کے معنی پر تدبر اور غور و فکر کیا جائے ، اور تجوید کے احکام کا دھیان رکھا جائے ، اور اس کی قراءت آزردگی اور رونے کی شکل اپناتے ہوئے کی جائے ، اور اس کی تعظیم اور عزت کرنا  ، اور اس کو سنتے وقت خاموشی کرنا ،اور اسے حفظ کرنے ،  اس کے احکامات پر عمل کرنے میں ، اس کے ممنوعات سے اجتناب کرنے  میں، اس کی محبت کرنے میں محنت کرنا ۔ اور اپنی خواہشات اس کی تعلیمات کے ماتحت رکھنا  ، اور اس کی تفسیر کی جانکاری کی حرص رکھنا ، اور اسے حفظ کرنے ، اس کی تلاوت کرنے اس پر تدبر کرنے ، اسے دہرانے کی حرص ہونا ، اور اس تقاضے کے مطابق عمل کرنے کے لیے جہاد بالنفس کرنا، اور رات کے آخری حصہ ( میں ) اس کی قراءت کے لئے اٹھنا اور اس کی آیتوں سے تہجد  نماز ادا کرنا  ،اور اس کے معنی میں تدبر کرنا ، اور اس کی قراءت کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا شیطان مردود سے ، اور سورتوں کی قراءت کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا  سوائے سورۃ توبہ کے ، اور قرآت کے دوران اس کے بغیر ( اور کاموں میں ) مشغول نہ ہونا ،  اسے دہرانے  پر مداومت کرنا کیوں کہ یہ ( ذہن سے ) نکل جانے میں اونٹ کا بندھن سے بھاگنے سے زیادہ سریع ہے ۔  

نبی  ﷺ نے فرمایا  : [إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا ، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا ، وَتَغَنَّوْا بِهِ, فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا] )  ابن ماجة : 1337 بروایت سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ ) (اسے امام البانی نے ضعیف کہا ہے ، مترجم)

یعنی : یہ قرآن حزن کے ساتھ نازل ہوا ہے( یعنی غور فکر سے دل حزین ہوجاتا ہے ) ،  پس جب تم اس کی تلاوت کرو تو رو لینا، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی شکل اختیار کرو ، اور اس کو خوش آواز سے پڑھو ، پس جو اسے ( احکام تجوید مد نظر رکھ کر ) خوش آواز سے نہیں پڑھتا ،  وہ ہم میں سے نہیں  ہے ۔

          اس کے آداب میں سے  یہ بھی  ہے کہ اس سے کمائی نہ کی جائے ، یا گانے والوں کی آواز کی طرح اس کی آواز نہ نکالی جائے ، یا اس کی قراءت ماتم کدوں میں ، میلادوں میں اور بدعات والی جگہوں میں نہ کی جائے ، اور اس کے آداب میں سے  یہ بھی  ہے کہ سجدہ والی آیتوں پر پہنچنے پر سجدے کئے جائیں اور اس کی ( تلاوت کے ) اختتام پر دعا کی جائے ۔

اس کے آداب میں سے  یہ بھی  ہے   کہ  دن رات میں اس کے پڑھنے کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر عمل کرنا ، اس سے اعراض نہ کرنا ، یا اس میں غلو نہ کرنا ، یا اس کے ذریعہ سے نہ کھانا (یعنی اسے کمانے کا ذریعہ نہ بنانا) یا اسے کثرت ( مال یا شہرت ) کا ذریعہ نہ بنانا ، یا اس کی قراءت میں جلد بازی نہ کی جائے ، یا دکھاوا نہ کیا جائے یا شہرت و مبالغہ نہ کیا جائے۔

          اس کے آداب میں سے  یہ بھی  ہے کہ اسک و ( دھیان سے ) سنا جائے جب اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے، اس کی رحمت ، سکینت ، اس کے فرشتوں کے نزول، ملا اعلی ( آسمانوں میں ) اسے یاد کرنے کی طلب کے لیے پڑھا جائے ۔

اس کے آداب میں سے  یہ بھی  ہے   کہ  اس کو سیکھنے اور لوگوں کو سکھانے ، اس کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی حرص ہو ، اور زندگی کے تمام معاملات میں اس پر عمل کرنا ، اور اس سے فقہ حاصل کرنا ، اور اس کی تفسیر عقل اور رائے سے نہ کرنا ، اور اس کی تفسیر صرف رسول اللہ ﷺ کی طرف سے منقول ( یعنی نص ) سے کرنا ، یا اس کی آیات کی ایک دوسرے سے تفسیر کرنا ( یعنی قرآن کو قرآن ہی سے تفسیر کرنا ) ، یا صحابہ کرام ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )اور تابعین کے اقوال سے کرنا  ، اور قرآن کی زبان  یعنی  عربی زبان کی طرف(بوقت ضرورت) رجوع کرنا ، اور کافروں کو اس کے ساتھ اہانت کرنے کا موقع نہ دینا۔

فرمایا ( رسول اللہ ) ﷺ نے : [ إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ ] ( مسلم : 817 عن عمر الخطاب رضي الله تعالیٰ عنه )

یعنی : اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں ( کے مقام ) کو بلند کرتا ہےاور کچھ لوگوں( کے مقام )  کو گرا دیتا ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : [ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ] ( النساء : 105 )

یعنی : یقینا ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے ، تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو ۔