مجھے ياد رکھیں

خطابت کے آداب

( ماخوذ از : موسوعة الآداب الإسلامیة، ج 1 ص 110 ، اعداد : فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن محمد المعتاز )

ترجمہ : عرفان احمد راتھر ، طالب علم : ھیئۃ الطلاب المسلمین جموں و کشمیر MSB ، مراجعہ: ھارون رشید خواجہ ، بتاریخ :  12 اگست 2015

خطابت کے ( وہ ) عظیم آداب وہ ہیں جو ( رسول اللہ ) ﷺ خطبہ میں عملاتے تھے ، لگتا تھا کہ جیسے وہ خطبہ دیتے ہوئے کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں ، وہ فرماتے تھے:« صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ » : تم پر صبح کو دشمن آئے گا ، تم پر شام کو دشمن آئے گا (ایسا صرف ڈرانے اورذہنی بیدار رکھنے کے لیے فرماتے تھے )۔ وہ زمین پر ، منبر پر اور اونٹنی پر خطبہ دیتے تھے، اور ان کے منبر کی تین سیڑھیاں تھیں ، اور کھجور کے تنے پر (بھی) خطبہ دیتے تھے، اور اپنی انگلیوں سے اشارے کرتے تھے اور فرماتے : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ» ( بعض روایات میں یہ بھی ہے ) " وَكُلُّ ضَلاَلَةٍ فِي النَّارِ " ۔ یعنی : اب اس کے بعد ! تو یقینابات ( یعنی کلام ) میں بہترین اللہ تعالی کی کتاب ہے اور رہنمائی میں بہترین ( رہنمائی ) محمد ﷺ کی رہنمائی ہے، اور بدترین کام ( دین میں ) نیا ایجاد کردہ کام ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں (پہنچنے کا سبب ) ہے ۔ وہ اپنے خطبے کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے تھے، پھر شہادت پڑھتے کرتے تھے، اور اپنے خطبے کا اختتام استغفار سے کرتے تھے ۔ قرآن ( کی آیات )سے خطبہ دیتے تھے، خاص کر سورۃ " ق " سے ۔ یقینا ان کو ( اللہ تعالی کی طرف سے ) جامع الکلم(یعنی مختصر الفاظ میں عظیم معانی پرونا) عطا کیا گیا ۔ وہ اپنے خطبے میں عقیدہ اور شریعت کی وضاحت کرتے تھے ۔ جب کوئی معاملہ درپیش آتا تھا تو آپ خطبہ کے دوران ہی حکم دیتے یا منع کرتے تھے ، اور کبھی کبھار ( کسی ) حاجت کے لئے منبر سے نیچے اترتے پھر واپس چڑھتے ۔ وہ حسب حاجت مناسب موضوعات چنتے تھے ۔ وہ کبھی کبھار بارش کے لئے دعا مانگتے جب اس کی حاجت ہوتی ، اور خطبہ سے پہلے نماز جمعہ سے قبل سلام کرتے تھے(جس حدیث میں اس کی دلیل ہے اسے ابن ماجہ میں امام البانی نے حسن کہا ہے / 1109، مراجع) اور لوگوں کی طرف منہ کرکے متوجہ ہوتے ، پھر ( ممبر پر )بیٹھ جاتے تھے ، پھر بلال ( رضی اللہ عنہ ) اذان دیتے تھے ۔ پس جب وہ ( رضی اللہ عنہ ) اذان سے فارغ ہوتے ، تو خطبہ اور اذان کے درمیان وقفہ دیے بغیر ہی وہ خطبہ شروع کرتےتھے ، اور منبر کو استعمال کیے جانے سے پہلے لاٹھی یا تیرکمان پر ٹیک رکھتے ، پھر خطبہ اولی کے بعد تھوڑی دیر بیٹھتے تھے، پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے، پھر نماز پڑھی جاتی ، اور دو عیدوں میں عورتوں سے الگ خطاب فرماتے اور دونوں عیدوں میں نماز سے شروعات کرتے تھے پھر خطبہ فرماتے تھے ۔ وہ اپنا خطبہ اپنے اس قول سے شروع فرماتے : [ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُه ونَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، منْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ] ( أبو داود : ( 1097 ( امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے / 2118 ) یعنی : تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے ، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں ، اور اسی سے مغرفت طلب کرتے ہيں ، اور اپنے نفوس کے شروں سے اسی کی پناہ مانگتے ہیں ۔ جسے اللہ ہدایت دے تو اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکے گا ، اور جسے وہ گمراہ کردے تو اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی ( حقیقی ) معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ان کے خطبے حسب حاجت کبھی مختصر ہوتے تھے اور کبھی طویل ہوتے تھے ۔ انہوں نے مدینہ ( طیبہ ) تشریف لاتے وقت اور سورج گہن کے وقت اور استسقاء کے وقت اور حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن ، منیٰ میں اور غزوہ تبوک میں خطاب فرمایا ، اور جب لوگوں کے افعال سے منع فرمانے کا ارادہ کرتے تو ان ( میں کسی ) کا نام نہیں لیتے، اور (صرف ) یوں فرماتے : لوگوں کو کیا ہوگیا کہ ایسا ویسا کرتے ہیں ، اس کی مثال ان کے خطبہ میں سے یہ ہے : [ أَمَّا بَعْدُ! فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضاءُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ] ( البخاري : 2168 ، مسلم (1504 : یعنی : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں ( ثابت ) نہیں ہے ۔ پس وہ شرط باطل ہے جو اللہ کی کتاب میں ( ثابت ) نہیں ہے ، اگر چہ ( ایسی ) سو شرطیں ( بھی ) ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی ( ثابت کردہ ) شرط زیادہ پکی ہے ۔ یقینا ( آزاد کردہ غلام کی ) ولایت اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔ اور ان کے ( یعنی رسول اللہ ﷺ کے ) خطبہ میں سے( یہ ایک مثال ) ہے : [ أَمَّا بَعْدُ ! فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي، وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَى فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الجَزَعِ وَالهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الغِنَى وَالخَيْرِ، فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ] ( البخاري : 923 و احمد : 69 : 5 )

یعنی : أَمَّا بَعْدُ !  اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں بعض لوگوں کو(مال) دیتا ہوں اور بعض لوگوں کو نہیں دیتا ہوں۔ میں جس کو نہیں دیتا ، وہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے جس کو دیتا ہوں، لیکن میں ان ( ہی  ) لوگوں کو دیتا ہوں جن کے دلوں میں بے صبری اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں ۔ میں ان لوگوں کو  چھوڑتا ( یعنی  نہيں دیتا ) ہوں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے بے نیازی (مال کی عدم لالچ ) اور بہتر ی پیدا کی  ۔ ان میں سے (یعنی جن کو نہیں دیا گيا)عمرو بن تغلب ( رضی اللہ عنہ بھی ) ہے  ۔